فنکشنل عربک اِسٹڈی مرکز قائم کرنے کی اِسکیم برائے ایک سالہ ڈپلوما اِن فنکشنل عربک کورس
قومی
کونسل برائے
فروغِ اردو
زبان کے نزدیک
کلاسی زبانوں
کی بہت اہمیت
ہے تاکہ ملک
کی ثقافتی
وراثت کا تحفظ
ہو سکے۔لہٰذا
عربی زبان کے
فروغ اور
ترقّی کے لئے
بہت سے
پروگرام شروع
کئے گئے
ہیں۔رجسٹرڈ این
جی او /مدارس/ اِداروں
کو عربی زبان
کے فروگ کے
لئے مالی اِمداد
دینے کے علاوہ
کونسل نے 2007 سے
عربی کا ایک
سالہ ڈپلوما
کورس اُن
لوگوں کے لئے
شروع کیا ہے جو
عربی زبان سے
باالکل نا بلد
ہیں۔اِس کورس
کی مدد سے
طلبہ کو عربی
لکھنے پڑھنے
میں مدد ملے
گی اور ساتھ
ہی وہ کونسل
کے 2(دو) سالہ
فنکنشنل عربی
ڈپلوما کورس میں
داخلے کے لئے
بھی مجاز ہو
جائیں گے۔
اہلیت
برائے عربی
زبان اِسٹڈی
مرکز منظوری
تنظیم جو
عربی اِسٹڈی
مرکز کھولنے
کی درخواست دے
رہی ہے وہ
مندرجہ ذیل
شرائط پورا
کرے:
1 ۔
سوسائٹیز
رجسٹریشن
ایکٹ کے جسٹرڈ
ہو کم از کم
گزشتہ 3(تین)
برسوں سے فعال
ہو۔
2۔حکومت
کے این جی
او پورٹل http//ngo.india.gov.inپر
رجسٹرڈ ہو نی
چاہئے۔
3۔تعلیمی
سرگرمیوں میں
سرگرم ہو
4۔مرکز
میں کم از کم
25(پچیس) طلبہ کا
اِندراج ہو۔
عر بی
زبان اِِسٹڈی
مرکزکے لئے
بنیادی دھانچہ
1۔کورس
چلانے کے لئے
تقریباً
37.5مربّع میٹر
کی جگہ۔
2۔ایک
آفس مع متعلقہ
سہولیاےت کے
مثلاً بجلی، اِستنجا
خانہ (لڑکے
اور لڑکیوں کے
لئے الگ الگ)، پینے کا
پانی وغیرہ۔
3۔کلاس
روم فرنیچر
یعنی کم ازکم 25(پچیس)
میزیں
اورکرسیاں
4۔مدرّس
کے لئے جگہ
اور فرنیچر
5۔سفید/کالا
بورڈ
6۔صحیح مقام
پرX64 فٹ کا
سائن بورڈجس
پر فنکشنل
عربی اِسٹڈی
مرکز کا این سی
پی یو ایل کی منظوری
جلی حروف میں
لکھا ہواور
اِس کے علاوہ
مندرجہ ذیل
عبارت بھی لکھی
ہو:
فنکشنل
عربی زبان
اِسٹڈی مرکز
مالی
اِمداد
قومی
کونسل برائے
فروغِ اردو
زبان
وزارت
برائے فروغِ
انسانی
وسائل،شعبہ
اعلیٰ تعلیم،
نئی دہلی
زیرِاہتمام
مدرسہ/این جی
اواِدارے کا
نام
7۔مندرجہ
بالا سہولیا ت
فراہم کرنے کے
لئے این سی
پی یو ایل کسی
بھی قسم کا
خرچہ برداشت
نہیں کرے گی۔
عربی اُستاذ
کی اہلیت:
منظور شدہ
اِدارے سے
گریجویشن کی
سطح پرعربی بحیثیت
مضمون یا
مساوی اور
عربی و
اردوزبانوں
پر عبور۔
مدرّس/مدرّسین
مندرجہ ذیل
فرائض انجام
دیں گے:
1۔وہ
ایک ہفتے میں
60(ساٹھ) ۔60(ساٹھ)
منٹ کی
3(تین)۔3(تین)
کلاسیں لیں
گے/گی۔
2۔وہ
جواب کی
کاپیوںکیجانچ
کر کےاین سی
پی یو ایل کو
ہر طالبِ علم
کے حاصل کردہ
نمبرات
بھیجیں گے/گی۔
3۔وہ
حاضری رجسٹر
کو
برقراررکھیں
گے /گی اور جب
ضرورت پڑے این سی
پی یو ایل کےمعائنہ
افسر کے سامنے
پیش کریں
گے/گی۔
4۔وہ
طلبہ کے
ریکارڈ اور
اُن کے جواب
کی کاپیوں
وغیرہ کے ذمّہ
دار ہوں گے/گی۔
کورس کا
ڈھانچہ
1۔کورس
ہر سال یکم
اپریل سے شروع
ہوگا۔اِس کورس
کی مدّت ایک
برس ہے۔اِس
کورس میں
رجسٹریشن کی
آخری تاریخ ہر
سال فروری ماہ
کی28تاریخ
ہوتی ہے۔
2۔کورس
کا بنیادی
مقصد جدید با
محاورہ عربی
میں لکھنے
پڑھنے کے
صلاحیت پیدا
کرنا ہے۔
3۔کورس
4(چار) یونٹوں
میں منقسم ہے۔
4۔کتاب
مع 4(چار) یونٹ
جو کہ 2(دو) حصوں
پر مشتمل ہیں
وہ اِسٹڈی
مرکز پر روانہ
کئے جائیں گے
5۔چاروں
یونٹ بتدریج
ایک دوسرے میں
ضم کر دیئے جائیں
گے۔
6۔جانچ
مکمّل یونٹ کی
بنیاد پر ہو
گا۔
6۔ہرسیشن
کے اِختتام پر
ایک آخری
تحریری اِمتحان
ہو گا۔
7۔ڈپلوما
صرف
اُنہیںطلبہ
کوتفویض کیا
جائے گاجو کامیابی
کے ساتھ آٹھوں
ماڈیول مکمّل
کریں گے اور
آخری تحریری
اِمتحان بھی
پاس کریں گے۔
فیس
ڈھانچہ
مرکز فی
طالب علم
کونسل کو
روپیے200/=ادا کرے
گا۔
داخلے کے
لئے اہلیت:
1۔و ہ
طلبہ جو اردو
زبان لکھنا
پڑھنا جانتے
ہوں اِس کورس
میں داخلہ لے
سکتے ہیں۔
2۔اِس
کورس میں
داخلہ لینے کے
لئے عمر کی
کوئی حد مقرر
نہیں ہے۔
3۔طالب
علم کی تعلیمی
لیاقت لازماً
ہائی اِسکول)10 (پاس
یا مساوی
ہو۔(ترجیحی(
مالی
اِمداد کی حد
1۔جزو
وقتی عربی مدرس
کا اِعزازیہ Rs. 3500/=ماہانہ۔25(پچیس) سے
50(پچاس)طلبہ کے
لئے ایک
مُدرِِّس،51(اِکیاون)
سے100(سو)طلبہ کے لئے
2(دو) مدرس اور
100(سو) سے زائد
طلبہ کے لئے
3(تین) مدرس
2۔چارٹرڈ
اکاﺅنٹنٹ کی
فیس، اِسٹیشنری،
ڈاک خرچ،
بجلی،
پانی،فون
وغیرہ کے لئے
روپیے700/=ماہانہ۔
3۔اُس
اِسٹڈی سینٹر
جس میں 100(سو) سے
زائد طلبہ کا اِندراج
ہو اُس کے
ریکارڈ
کیپرکو
اِعزازیہ
روپیے500/= ماہانہ
درخواست
دہندہ
تنظیم/سوسائٹی /این
جی او ہر حال
میں این سی
پی یو ایل کے
مقررہ شیڈول
کے مطابق ہی
کورس چلائے
گی۔اگر اِن
ہدایات کی ذرا
سا بھی
اِنحراف کیا
گیا تو این سی
پی یو ایل مرکز
کی منظوری ختم
کر سکتی ہے۔مرکز
طلبہ کے
جسٹریشن سے
پیدا ہو نے
والی تمام
قانونی
پیچیدگیوںکا
خودہی ذمہ دار
ہو گا۔
نوٹ: اِس اِسکیم کے تحت اِمدا د2ایک برس دی جائے گی اور توسیع اُسی وقت ممکن ہو گی بشرطیکہ عربک اِسٹڈی مرکز اِطمینان بخش طریقے پر کام کر رہا ہو۔مزید یہ کہ کسی خاص مالی سال میں مفوّضہ فنڈ کے مطابق مرکز کی مالی اِمداد میں بغیر کسی پیش گی اِطلاع کے تخفیف کی جا سکتی ہے۔ کسی بھی قسم کی مالی ذمّہ داری اگلے مالی سال میں نہیں لے جائی جا سکتی۔