2005 حق اطلاعات ایکٹ
4(1) (b) (i) تنظیم، کارگزاری اور فرائض کی تفصیلات
قومی کاؤنسل برائے فروغ اردو زبان کا قیام نویں پنج سالہ منصوبے کے دوران وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے تحت محکمہ تعلیم میں عمل آیا- کاؤنسل نے تدریسی اور انتظامی امور کا آغاز یکم اپریل 1996 سے کیا- حکومت ہند نے کاؤنسل کو قومی رابطہ کار ادارہ کا درجہ تفویض کیا- فی الحال وزارت برائے فروغ انسانی وسائل، حکومت ہند کے تحت عمل پیرا ہے اور اس کی حیثیت ایک اہم ادارے کی ہے جس کا نصب العین اردو زبان کا فروغ اور اردو کی قومی دھارے سے جوڑنا ہے-
علاوہ ازیں کاؤنسل کی زائد ذمہ داریوں میں عربی اور فارسی زبانوں کا فروغ بھی ہے- ان زبانوں نے ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کے ارتقا میں اہم کردار ادا کیا ہے-
کاؤنسل کے وسیع مقاصد میں شامل ہے:
- 1. اردو زبان کا فروغ، ترقی اور ترویج
- 2. اس جانب اقدام لینا کہ سائنس اور تکنالوجی میں ہونے والی ترقی اور جدید افکار کو اردو زبان میں مہیا کیا جاسکے-
- 3. حکومت ہند کو اردو زبان کے ایسے مسائل کے متعلق مشورے دینا جن کا تعلق تعلیم سے ہو-
- 4. ایسی سرگرمیوں کا بھر پور تعاون کرنا جن سے اردو زبان کی ترویج ممکن ہوسکے-
کارگزاری اور فرائض
کاؤنسل کی کارگزاری میں شامل ہے کہ وہ:
- 1. اردو زبان میں سائنس اور دیگر عصری علوم کی اشاعت مثال کے طور ر اطفال، نصابی کتب، حوالہ جاتی کام، انسائکلوپیڈیا، لغات وغیرہ تیار کرے-
- 2. مختلف علوم کی تکنیکی اصطلاحات کو نہ صرف جمع کرنا بلکہ ان کے سلیس اردو متبادل بھی تیار کرنا تاکہ اردو زبان میں موجود ذخیرے میں مزید اضافہ کیا جاسکے-
- 3. اپنے مقاصد کے پیش نظر رسائل اور جرائد کی نشر و اشاعت میں تعاون کرنا-
- 4. مناسب مواقعوں پر اردو زبان میں شائع شدہ کتابوں وغیرہ کی ملک اور بیرون ملک فروخت کے انتظامات کرنا-
- 5. اردو ٹائپنگ اور شارٹ ہینڈ کو فروغ دینا-
- 6. کمپیوٹرائزیشن کو ترقی دینا تاکہ اردو زبان دور حاضر کے تکنیکی تقاضوں کو پورا کرنے کی متحمل ہوسکے-
- 7. ان اسکیموں اور پراجکٹوں کو تیار کرنا اور نافذ کرنا جن سے اردو کو ہندی، انگریزی اور جدید ہندوستانی زبانوں کے ذریعے سکھایا اور پڑھایا جاسکے بشمول فاصلاتی نظام کے ذریعے-
- 8. صوبائی حکومتوں اور دیگر اداروں سے رابطہ کرنا تاکہ اردو زبان کی مزید ترقی اور ترویج ممکن ہوسکے-
- 9. غیر سرکاری تنظیموں کو اردو کے فروغ کے لیے مالی امداد اور راہنمائی فراہم کرنا-
- 10. صوبائی اردو اکادمیوں کی سرگرمیوں میں تعاون کرنا-
- 11. دیگر ہم مقصد اداروں کی رکنیت اختیار کرنا اور ان کو کو آپریٹ کرنا-
- 12. کاؤنسل کے مقاصد کی پیش نظر کسی فرد، کارپوریشن یا ادارے سے چندہ، گرانٹ ان ایڈ، تحفہ جات، آلہ جات، توارث یا قرض کو حاصل کرنا یا قبول کرنا-
- 13. کاؤنسل کی املاک کی خرید، انصرام، تبادلہ، منتقلی، ضمانت، خاتمہ، فروخت مگر کاؤنسل کی غیر منقولہ املاک کا کسی بھی طور پر مرکزی حکومت کی اجازت کے بغیر نہ تو تبادلہ ہی کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کو فروخت کیا جاسکتا ہے-
- 14. ضمانت یا غیر ضمانت کے، رہن رکھواکر، ادھار دے کر، مکفول کرکے یا اور کسی طریقے سے پیسے اکھٹا کرنا-
- 15. مختلف اوقات میں کاؤنسل کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کےمطابق فوری طور پر استعمال میں نہ آنے والے پیسے کو کہیں لگانا یا خرچ کرنا-
- 16. چیک اور اس جیسی دیگر اشیا کو قبول، وصول، ادا اور ڈسکاؤنٹ کرنا-
- 17. کاؤنسل کے کام کاج کو بہتر بنانے کی غرض سے قوانین اور ضمنی قوانین کو مرکزی حکومت کی اجازت سے تشکیل دینا اور ان میں وقتا فوقتا ترمیم کرنا-
- 18. ایک فینڈ برقرار رکھنا جس میں جمع ہوگا:
- (a) مرکزی حکومت کے ذریعے فراہم کردہ پیسہ
- (b) کاؤنسل کے ذریعے حاصل کی گئی تمام فیس اور دیگر رقوم
- (c) کاؤنسل کے ذریعے گرانٹ، تحائف، عطیات، نذرانے، توارث یا تبادلے کی شکل میں حاصل شدہ پیسہ-
- (d) وہ تمام پیسہ جوکاؤنسل کو کسی بھی طریقے یا ذریعے سے حاصل ہوا ہو-
- 19. تمام پیسے کو مرکزی حکومت کی اجازت سے تمام جمع شدہ فنڈ کی رقم کو کاؤنسل سے طے شدہ بینک میں یادیگر جگہ لگانا-
- 20. اپنے کسی ایک یا تمام مقاصد کے حصول کے لیے تحفے، منتقلی، پٹے پر یا کسی اور جائز طریقے پر زمین، عمارت یا املاک حاصل کرنا یا کاؤنسل سے متعلق املاک کے معاملات طے کرنا-
- 21. کاؤنسل کے تمام اخراجات بشمول ان اخراجات کے جو اس کے فرائض کے انجام دہی کے لیے ہوں اپنے ہی فنڈ سے پورا کرنا-
- 22. مرکزی حکومت سے منطور شدہ طریقے پر باقاعدہ طور پر اکاؤنٹس، بیلنس شیٹ اور دیگر متعلقہ ریکارڈس برقرار رکھنا-
- 23. ہرسال مرکزی حکومت کو کاؤنسل کی سرگرمیوں اور اکاؤنٹس کے متعلق مرکزی حکومت کے ضوابط کے مطابق سالانہ رپورٹ داخل کرنا-
- 24. ضرورت کے مطابق ذیلی کمیٹیاں یا کمیٹیاں جیسا مناسب ہو تشکیل دینا-
اہم سرگرمیاں
1. اردو زبان میں اطلاعات تکنالوجی کی منتقلی:
· زبانوں کے پھلنے پھولنے کے لیے لازم ہے کہ انہیں جدید تکنالوجی سے منسلک کیا جائے- اسی مقصد کے مدنظر NCPUL نے 1999 میں ڈپلوما ان کمپیوٹر ایپلیکیشن اینڈ ملٹی لنگول ڈی ٹی پی شروع کیا- اس اہم اقدام کا مقصد اردو بولنے والے افراد کو صلاحیت مند انسانی وسائل میں تبدیل کرنا ہے تاکہ وہ ملازمت حاصل کرنے کے لیے مضبوط تکنیکی طاقت بن کر ابھریں- ساتھ ہی ملک کی نچلی سطح تک کمپیوٹر کو متعارف کیا جاسکے- اس اقدام سے کاؤنسل کو خاطر خواہ کامیابی ہے- اس کے نتیجے میں ملک کے طول وعرض میں پھیلے کاؤنسل نے مختلف مراکز سے ملازمت کے لائق بہترین ڈی ٹی پی آپریٹرس، وژول ڈئزائنرس، ڈاٹا انٹری آپریٹرس، اکاؤنٹس آپریٹرس اور پروگرامرس وغیرہ جیسے پیشہ وہ پیدا کیے ہیں- اب تک پورے ملک میں کاؤنسل نے 184 کمپیوٹر ایپلیکیشن اور ملٹی لنگول ڈی ٹی پی مراکز قائم کیے ہیں-
· 6 چھ مراکز (رانچی، حیدر آباد، سری نگر، اور بنگلور) صرف اور صرف لڑکیوں کے لیے مختص ہیں- اب تک 22905 طلبا کو کاؤنسل کے ذریعے کمپیوٹر ڈپلوما سے نوازا جاچکا ہے- ان میں سے 40 فیصد لڑکیوں نے اور 60 فیصد ڈپلوما والے طلبا کو معقول ملازمت حاصل ہوچکی ہے-
· کاؤنسلC-DAC پونے کے تعاون سے انٹرنیٹ کے لیے لیے ایک اردو سافٹ ویر تیار کرنے میں مصروف ہے- امید ہے اگلے مالی سال تک یہ منظر عام پر آجائے گا-
· خطاطی اور گرافک ڈیزائننگ تربیتی مراکز
· خطاطی اور طغری نویسی ہماری قیمتی وراثت ہیں- لہذا عصری دنیا میں اس خوبصورت فن کے تحفظ اور اس کی ترویج کے لیے NCPUL نے خطاطی اور گرافک ڈیزائننگ تربیتی مراکز قائم کیے ہیں- مراکز میں تعلیم میں بیش بہا اضافے اور گرافک ڈیزائننگ و اپلائڈ آرٹس کو مزید فروغ اور وسعت دینے کی غرض سے کاؤنسل نے دو سالہ ڈپلوما کورس ڈپلوما ان کیلی گرافی اینڈ گرافک ڈیزائن شروع کیا ہے-
· اسی مقصد کے تحت ان مراکز کو ایک نئی سمت دی گئی ہے تاکہ ان مراکز کے فارغین دیگر اداروں کے فارغین کے مساوی صلاحیت کے حامل ہوں اور ان کے مقابلے برابر ہوں- نہ صرف یہ بلکہ بازار میں بھی اپنا مقام بناسکیں اور ساتھ ہی کاروبار کے مواقع بھی پیدا کرنے کے متحمل ہوسکیں-
· ان اقدام کےنتیجے میں خطاطی کے تحفظ کی جانب اہم پیش رفت ممکن ہوسکی ہے- مزید برآن پیشہ ورانہ ملازمت اور کاروبار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں-
3. اسکولی تعلیم
NCPUL کے اہم مقاصد میں اردومیڈیم اسکول میں ایسے تعلیمی اور تکنیکی سہولیات فراہم کرنا ہے جو قومی معیارات اور مقاصد کے مطابق ہوں- اس سلسلے میں سب سے اہم مسئلہ معیاری نصابی کتب کا تیار کرنا اور ہر تعلیمی سال کے آغاز میں ان کو فراہم کرنا ہے- پروگرام آف ایکشن 1992 اور قومی تعلیمی پالیسی 1986 میں پرائمری اور ثانوی درجوں کے لیے ترجیحی طور پر کتب تیار کرنے میں خاص طور پر تاکید کئی گئی ہے- گزشتہ کئی برسوں سے کاؤنسل NCERT کو نصابی کتب کے اردو ترجموں میں تعاون دے رہی ہے- نصابی کتب میں کمی کو پورا کرنے کے لیے Associted Text Project کے تحت مختلف علوم مثال کے طور پر سماجی علوم، حیاتیات، طبیعات اور جدید ریاضیات پر Associated Books تیار کی جارہی ہیں-
4. اردو ڈپلوما کورس
· اردو زبان اور رسم الخط کو مقبول بنانے کی غرض سے کاؤنسل برائے فروغ زبان سے دیوناگری اور رومن رسم الخط سے واقفیت رکھنے والے اردو سیکھنے کے خواہشمند حضرات کے لیے اپریل 2001 کو 6 (چھ) ماہ کا اردو رسم الخط سرٹیفکیٹ کورس بذریعے ہندی اور انگریزی شروع کیا ہے- اب اس کورس کی مدت بڑھا کر ایک سال کردی گئی ہے- اب تک 18993 لرنرس (سیکھنے والے) (12535 مرد اور 6458 خواتین) کو ڈپلوما تفویض کیے جاچکے ہیں-
5. نشرواشاعت
NCPUL حکومت ہند کا اردو زبان کا مخصوص اشاعتی ادارہ ہے- NCPUL کی اشاعتوں کی تدریسی حلقوں میں کافی پذیرائی ہوئی ہے- کاؤنسل کا بنیادی مقصد اردو میڈیم اسکولوں کے لیے معیاری ادب اطفال اور نصابی کتب تیار کرنا- علاوہ ازیں حوالی جاتی کتب، انسائکلوپیڈیا، منتخبات، لغات اور اردو شعرا اور نثر نگاروں کی تخلیقات کو منظر عام پر لانا بھی کاؤنسل کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں- نشرو اشاعت کے سلسلے کی اہم سرگرمی اردو کے 300 سالہ ارتقائی سفر کے دوران شعرا اور نثر نگاروں کے مستند کلاسیکی متن کی اشاعت ہے- نیز سنسکرت اور دیگر ہندوستانی زبانوں کے کلاسیکی ادب کا اردو ترجمہ کروانا بھی شامل ہے-
· کاؤنسل اب تک 1200 کتب شائع کرچکی ہے- کاؤنسل دو جریدے: اردو دنیا (ماہانہ) اور فکر و نظر (سہ ماہی) بھی نکالتی ہے-
6. فروغ کتب اور نمائش:
NCPUL کی ایک اہم سرگرمی اردو کی کتابوں کا فروغ ہے- اب تک NCPUL سات (7) کل ہند اردو کتاب میلوں کا انعقاد کرچکی ہے- اول اور دوم کتاب میلے 2000 اور 2001 میں دہلی کے تاریخی لال قلعہ میدان پر لگائے گئے- تیسرا 2002 میں ممبئی میں، چوتھا 2003 میں سر نگر میں، پانچواں 2004 میں ممبئی میں، چھٹا کل ہند اردو کتاب میلہ دسمبر 2004 میں حیدر آباد میں اور ساتواں 2005 میں لکھنو میں منعقد ہوا-
· ان تاریخی کتاب میلوں میں اردو ناشرین اور کتب فروشوں کے بشمول مختلف صوبوں کی اردو اکادمیوں نے بھی شرکت کی- ایک خاص اردو کتاب میلے کا انعقاد جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں 2005 میں کیا گیا- ان کتاب میلوں میں شائقین اردو نے کثیر تعداد میں شرکت کی- لہذا کاؤنسل نے فیصلہ کیا ہے کہ علاقائی کتاب میلوں کا بھی انعقاد کیا جائے گا- ساتھ ہی سارک (SAARC) ممالک میں بھی کتاب میلوں کے انعقاد کی کوششیں کی جائیں گی-
7. اردو پریس کا فروغ
جدوجہید آزادی میں اردو پریس کی بیش بہا خدمات کے پیش نظر اور سماجی استحکام، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور آزاد ہندوستان میں اقلیتوں کے فکری عمل کو قومی دھارے سے منسلک کرنے میں اہم کردار ادا کرنے کے مدنظر قومی کاؤنسل برائے فروغ اردو زبان نے اردو پریس کو مستحکم کرنے کی خاطر بعض بہت ہی اہم اقدامات کیے ہیں- کاؤنسل خورد اور متوسط درجے کے اردو اخبارات کو یونائٹڈ نیوز آف انڈیا کی اردو خدمات حاصل کرنے کے لیے مالی امداد کرتی ہے- اس اسکیم کی وجہ سے اردو پری کی خبروں اور آرا کی ہم آہنگی میں کافی مدد ملی ہے جس کے نتیجے میں اردو پریس براہ راست اردو میں خبریں شائع کرسکنے کی متحمل ہوسکی اور ترجمہ کرنے کی عرق ریز محنت کرنے سے بھی اسے چھٹکارا حاصل ہوسکا- ساتھ ہی وہ اس امر کی بھی مجاز بن گئی کہ قومی مفاد کے لیے نقصان دو مواد کو یکسر مسترد کردے-
یو این آئی نے اپنی ٹیلی پرنٹر خدمات میں مزید توسیع کی ہے جس کی وجہ سے ایک مخصوص سافٹ ویر کی مدد سے اسے براہ راست کمپیوٹر پر ہی دیکھا جاسکتا ہے- اس جانب کوششیں جاری ہیں کہ پورے ملک کو اس نظام کو منسلک کردیا جائے تاکہ اردو اخبارات میں مختلف اہم مسائل پر قومی دھاتے کی سوچ جھلکے- فی الحال 52 اردو روزنامے یواین آئی خدمات سے جڑے ہوئے ہیں-
8. عربی اور فارسی کا فروغ
فارسی اور عربی جیسی کلاسیکی زبانوں کے ثقافتی تحفظ، سماجی آہنگی کوبرقرار رکھنے اور قومی یکجہتی کو قائم رکھنے میں جو کردار ہوتا اس کو مزید دہرانے کی ضرورت نہیں-
· مدرسے اور مکتب عام اور بنیادی تعلیم دینے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں-
· عربی اور فارس ہماری ثقافت کا ثمرہ ہیں اور ان دو زبانوں نے ہماری مشترکہ تہذیب کو مزید تقویت دی ہے-
· اپریل 2002 میں کاؤنسل نے فنکشنل عربک میں دوسالہ ڈپلوما کورس ان لوگوں کے لیے شروع کیا جو عام بول چال کی عربی زبان سے نابلد ہیں- گذشتہ سیشن میں 6370 طلبا نے اس کورس میں داخلہ لیا-
9. گرانٹ ان ایڈ اور رضا کاراسکیموں کی امداد
· غیر سرکاری تنظیموں نے ہمیشہ ہی سے اردو کی ترویج و ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے-
· غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے اسکیم کے نفاذ سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ ان کی رسائی ملک کے دوردراز علاقوں تک ہوسکی ہے-
· مزید برآں ان تنظیموں نے عوام کے دلوں میں جگہ بنالی جس سے عوام کی نگاہ میں ان کی کافی وقعت ہے- مختلف اسکیموں کے تحت NCPUL انفرادی طور پر اور غیر سرکاری تنظیموں کو مالی امداد فراہم کرتی ہے تاکہ اردو کو فروغ مل سکے- ان اسکیموں میں یہ بھی شامل ہے کہ جزوقتی اردو اساتذہ کی تقرری کی جائے، مخطوطات کی طباعت کی جائے اور کتابوں وغیرہ کی بلک میں خریداری کی جائے-
علاقائی دفتر اور اس کا پتہ
قومی کاؤنسل برائے فروغ اردو زبان
ساؤتھ ریجن برانچ
22-7-110، III فلور
ساجد یار جنگ کامپلکس
بلاک نمبر 5-1، پتھر گّٹی
حیدر آباد-500002